Wednesday, June 3, 2009

حضر ت زہرا (س) ایک حقیقی اسوئہ عمل امام خمینی (رہ)کی نظر میں

حضر ت زہرا (س) ایک حقیقی اسوئہ عمل امام خمینی (رہ)کی نظر میں
زہرا (س) ایک ایسی خاتون ہیں کہ جن پر خاندان نبوت کو ناز ہے ،وہ اسلام کی جبیں پر جھومر کی طرح چمک رہی ہیں،وہ عورت کے جسکے فضائل پیغمبر اکرم ۖ اور خاندان عصت و طھارت کے بیشما ر ٰفضائل کے ہم پلہ ہیں ِ ہ عورت جسکی شان میں ہر شخص نے اپنی فکر کے مطابق قصیدہ خوانی کی ہے، لیکن اس کی تعریف کا حق نہیں ادا ہو سکا ۔ خاندان وحی سے مروی روایات بھی سامعین کی فکری وسعت کے مطابق تھیں ، دریا کو کبھی کوزہ میں نہیں سمیٹا جا سکتا ۔ دوسرے لوگوں نے ان کے جو فضائل بیان کئے ہیں وہ انکی فکری توانائی کے مطابق ہیں نہ کہ اس خاتون کی شان و منزلت کے مطابق۔ لہزا بہتر یہی ہے کہ ہم اس محیر العقول وادی میں قدم رکھنے کی کوشش نہ کریں ۔
۔۔۔۔۔ بہر حال حضرت زہرا (س) کے جتنے بھی فضائل بیان ہوئے ہیں اگر چہ وہ بہت بڑے ہیں لیکن میں جس فضیلت کو سب سے بڑی فضیلت سمجھتا ہوں وہ ایسی فضیلت ہے جو انبیاء کے علاوہ اور انکے ہل پل بعض اولیاء کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوئی، یہجو ٧٥ دن یا ٩٠ دن تک مسلسل جبرائیل کی آمد و رفت کی بات ہے وہ اب تک کسی اور کے لئے نہیں ہوئی، یہ حضر ت صدیقہ (س) سے ہی مختص ایک فضیلت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت فاطمہ زہرا(س) کا یہ چھوٹا سا گھر اور اس گھر میں تربیت پانے والے افراد جو عددی اعتبار سے تو چار پانچافراد ہی تھے ، لیکن حقیقت میں خدا کی تمام قدرت ان میں جلوہ گر تھی انہونے ایسی خدمات انجام دی ہیں جنہونے مجھے آپکو اور تمام مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔وہ عورت کے جس نے ایک معمولی سے حجرہ اور عام سے گھر میں ایسے انسانوں کی تربییت کی کہ جن کا نور اس زمین سے لیکر افلاک تک اور عالم ملک سے لیکر ملکو ت اعلیٰ تک چمکتا ہے۔ خدا کی رحمت ہوں اس حجرہ پر جو خدا کی رحمت اور عظمت کے نور کی جلوہ گاہ اور آدم سے لیکر اولاد آدم کے سب سے ممتاز افراد کی تربیت گاہ ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی سیرت
ہمیں اس خاندان کو اپنے لئے نمونئہ عمل بنانا چا ہئے ،ہماری عورتوں کو اس گھر کی عورتوں اور ہمارے مردوں کو اس گھر کے مردوں بلکہ ہم سب کو ان سب کی پیروی کرنی چاہئے ،انہوںنے اپنی زندگی مظلوموں کی حمایت اور الہٰی اقدار کو زندہ کرنے کے لئے وقف کر دی،ہمیں ان کی اتباع کرنی چاہئے ۔ ہم اپنی زندگی کو انکے لئے وقف کر دیں ، جو تاریخ اسلام سے آگاہ ہے وہ یہ جانتا ہے کہ اس خاندان کے ہر فرد نے بلکہ اس سے برھ کہ ایک الہٰی انسان کی طرح ملتوں اور مظلوموں کے حق میں ان لوگوں کے خلاف قیامکیا جو ان کمزور لوگوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے تھے
حکومت وقت کے خلاف حضرت فاطمہ زہرا(ص) کا خطبہ ،امیر المونین کا قیام کا ٢٠ سال سے بھی زیادہ عرصہ تک امیر المومنین کا صبر ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی مدد کرنا ،اس کے بعد اسلام کی راہ میں فدا کاری کرنا ، انکے بڑے بیٹے امام حسن کا وہ عظیم کارنامہ ،جس نے بنی امیہ کی جابر حکومت کو ذلیل و رسوہ کر کے رکھ دیا ، اور پھر پیارے بیٹے حضرت سید الشھدا کا عظیم کارنامہ ،یہ وہ باتیں ہیں جو ہم سب جانتے ہیں ۔اگرچہ انکے ساتھ افراد کم تھیں ۔ جنگی وسائل کی بھی کمی تھی لیکن ان میں روح الہی اور قوت ایمانی بڑی مضبوت تھی جس نے انہیں اس طرح بنا دیا کہ انہوں نے اپنے دور کے تمام ظالموں پر فتح حاصل کر لی، انہونے اسلام کو زندگی عطا کر دی ، وہ ہم سب کے لئے نمونئہ عمل بن گئے ، ہمیں افراد اور جنگی وسائل کی کمی کے باوجود اپنے مقابلہ میں آنے والی تمام طاقتوں کے خلاف مضبوتی سے ڈٹ جانا چاہئے ۔ جس طرح ہمیں اولیاء نے یہ درس دیا ہے کہ ظالم کے مقابلہ میں کبھی تبلیغ اور اسلحہ سے لیس ہوکر ڈٹ جانا چاہئے ، ظالموں کو انکی جگہ پر بٹھا دینا چاہئے ، ہمیں بھی انکی طرز عمل پر چل کر انکی پیروی کنی چاہئے ۔ ر
۔۔۔۔۔۔کوشش کیجئے کہ خود بھی زیور اخلاق سے آراستہ ہوں اور اپنے دوستوں کی بھی اچھے اخلاق اپنانے کے سلسلہ میں مدد کریں تاکہ آپ اپنیاوپر ہونے والے مظالمکے خلاف رد عمل ظاھر کر سکیں اپنی تمام حیثیت کی حفاظت کے لئے کہ انمیں سے سب سے بڑی حیثیت عورت ہونا ہے ۔ ہمیں اس بے مثال خاتون حضرت زہرا(ص) کی پیروی کرنی چاہئے ، جس طرح وہ تھیں ہمیں بھی اسی طرح ہونا چاہئے ۔ علم اور تقوی کے لئے کوشاں رہیں علم تو سب کی دولت ہے تقوی تمام لوگوں کے لئے ہے علم اور تقوی کے حصول کے لئے کوشاں رہنا ہم سب اور آپ سب کا فریضہ ہے۔

عظمت حضرت زہرا(س) آیت اللہ شھید مرتظیٰ مطہری(رہ) کی نظر میں

عظمت حضرت زہرا(س) آیت اللہ شھید مرتظیٰ مطہری(رہ) کی نظر میں
حضرت صدیقہ طاہرہ(س) کے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ ''' انا اعطیناک الکوثر''' کوثر سے بالاتر کوئی کلمہ نہیں ۔اس زمانہ میں جب کہ عورت کو شر مطلق اور گناہ و فریب کا عنصر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے پر فخر کیا جاتا تھا اور خواتین پر ظلم کو اپنے لئے شرف شمار کیا جاتا تھا ایسے زمانہ میں ایک خاتون کے لئے قرآن مجید نہیں کہتا '' خیر''' بلکہ کہتا ہے کوثر یعنی ''خیر کثیر'' ۔
حضرت زہرا (س)اور ھضرت علی گھر کے کاموں کو ایک دوسرے کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ رسول خدا ۖ اس بارے میں اظہار نظر فرمائیں ۔لہذا رسول خدا ۖ سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ فرمائیں گھر کا کون سا کام علی کریں اور کون سا فاطمہ (س) انجام دیں ؟ رسول خدا ۖ نے گھر کے اندر کے کام زہرا (س) کے سپرد کئے اور گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری علی کو سونپ دی۔حضرت زہرا (س) فرماتی ہیں کہ میری خوشی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ میرے بابا نے مجھے گھر کے باہر کے کاموں سے سبک دوش کیا ۔ عالم و با شعور عورت کو ایسا ہونا چاہئے جسے گھر سے باہر نکلنے کی حرص و حوس نہ ہو ۔
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ زہرا(س) کی شخصیت کس پائے کی ہے؟ان کے کمالات اور صلاحیتیں کیسی ہیں ؟ان کا علم کیسا ہے ؟ان کی قوت ارادی کس قدر ہے ؟ اور انکی خطابت و بلاغت کیسی ہے؟
حضرت زہرا(س) جوانی کے ایام میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور انکے دشمن اس قدر زیادہ تھے ۔ ان کے علمی آثار بہت کم ہم تک پہونچے ہیں لیکن خوش قسمتی سے انکا ایک طولانی اور مفصل خطاب تاریخ میں ثبت ہوا ہے جسے صرف شیعوں نے ہی نقل نہیں کیا بلکہ بغدادی نے تیسری صدی میں اسے نقل کیا ہے ۔ یہی ایک خطبہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مسلمان عورت خود کو شرعی حدود میں رکھتے ہوئے اور غیروں کے سامنے خود نمائی کئے بغیر معاشرہ کے مسائل میں کس قدر داخل ہو سکتی ہے۔
حضرت زہرا کا خطبہ توحید کے بیان میں نھج البلاغہ کی سطح کا ہے ۔ یعنی اس قدر بلند مفاہیم کا حامل ہے کہ فلاسفہ کی پہنچسے بالاتر ہے ۔ جہاں ذات حق اور صفات بارئے تعالیٰ کے بارے میں گفتگو ہے وہاں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کائنات کی سب سے بڑی فلسفی محو سخن ہے۔پھر فلسفہ احکام بیان کرتی ہیں :خداوند عالمنے نماز کو اسلئے واجب کیا ،روزہ کہ اس مقصد کے تحت واجب قرار دیا ، حج و امر بالمعروف و نہی از منکر کے وجوب کا فلسفہ یہ ہے ۔ پھر اسلا م سے قبل عربوں کی حالت پر گفتگو کرتی ہیں کہ تم عرب لوگ اسلا م سے پہلے کس حالت میں تھے اور اسلام نے تمہاری زندگی میں کیسا انقلاب برپا کیا ہے۔مادی اور معنوی لحاظ سے انکی زندگی پر اشارہ کرتی ہیں اور رسول خدا ۖکے توسط سے انہیں جو مادی اور معنوی نعمتیں میسر آیئں انہیں یاد دلاتی ہیں اور پھر دلائل کے ساتھ اپنے حق کے لئے احتجاج کرتی ہیں ۔
مجموعہ آثار ج۔١٧ص٤٠٣ تا ٤٠٦