Wednesday, April 1, 2009

imam hasana;alaihissalam ki sirat ki kuch jhalkiyan

امام حسن کی سیرت کی جھلکیاں
یوں تواسلامی سال کا کوئی بھی مہینہ ماہ محرّم جیسا غم انگیز نہیں لیکن ماہ صفر ایسا ہے جو درد وغم کے بیکراں سمندر اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے جن کی طغیانیاں مصائب ماہ محرّم کی تفسیر کرتی ہیں ماہ صفر ایک طرف اہل حرم کے فتح شام و کوفہ کا گواہ ہے اور ایک طرف بادشاہ غیرت کے سیدانیوں کی بے چادری پر جھکے سر کا شاہد ہے یہی ماہ صفر ہے کہ جس نے اپنے دامن پر پیامبر اسلام کی فرقت اور کریم اہلبیت کی شہادت کی داستان رقم کی ہوئی ہے ہاں اسی ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو پیامبرۖ کے غم فراق کے بعد ایک اور تازہ غم اہلبیت اور ان کے محبّوں کے دلوں میں سرایت کر گیا ہاں وہ شہزادہ سبزقبا کہ جو باغ نبوت اور امامت کا پہلا ثمرہ تھا جام شہادت نوش کر گیا وہ چلا گیا کہ جس کی ماں زہرا دختر نبی اور ہم پلّہ علی تھی وہ کہ جسے نبی ۖ نے اپنا بیٹا اور اپنی خوشبوکہا اس دنیائے فانی کو چھوڑ گیا وہ بادشاہ کہ جس کی رعایامیں حسین اور زین العابدین جیسے معصوم زینب و کلثوم جیسی با وقار خواتین عباس اور محمد حنفیہ اور عبداللہ ابن جعفر جیسے شجاع تھے پائتخت ابدی کی طرف کوچ کر گیا وہ کہ جو کائنات کا امام اور جوانان جنت کا سردار تھا مجالس میں جس کا ذکر نہ ہونا فاطمہ کو رنج پہونچاتا ہے کیوںکہ حسن بھی تو فرزند زہرا ہے اور فاطمہ اسے بھی تو اپنے حسین کی طرح چاہتی ہیں اس کی شھادت کی مناسبت پر ان کے فضائل کے سمندر سے کچھ قطرے الفاظ کی شکل میںساغر کاغذ میں جمع کر رہا ہوں تاکہ کچھ تو زہرا کا حق ادا ہو جائے اور کچھ تو اجر رسالت ادا ہو یوں تو ہمارا ہر معصوم ہر صفت کمال کا حامل ہوتا ہے لیکن کچھ صفات کسی معصوم میں گردش زمانہ یا حالات کے تقاضوں کے تحت زیادہ رو نما ہو جاتی ہیں امام حسن کی حیات طیّبہ میں ایک طرف جہاں صفّین کی معرکہ آرائیاں ملتی ہیں وہیں دوسری طرف صلح کی شمع بھی ذوفشاں ہے ایک طرف نماز جیسی جلوہ نمائی ہے وہیں دوسری طرف ٢٠ سے ٢٥ تک پیدل حج عشق الہٰی کی گواہی دے رہے ہیں ایک طرف شادمانہ طرز زندگی ہے تو دوسری طرف زاہدانہ خیرات ،ایک طرف سکوت عبادتوں میں ڈھل رہا ہے تو دوسری طرف علم وحلم کے دریا بہہ رہے ہیں

امام حسن ،نمونۂ تواضع و انکساری

تواضع اور منکسر مزاجی بزرگی اور کمال نفس کی علامت ہے رسول خدا ۖ فرماتے ہیں کہ انسان کا متواضع ہونا اسے سر بلند کرتا ہے ایک دن امام حسن نے دیکھا کہ راستہ میں کچھ فقیر زمین پر روٹی کے ٹکڑے رکھے کھا رہے ہیں ان لوگوں نے امام کو دیکھا تو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی آپ نے دعوت کو قبول فرمایا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی : انّ اللہ لا یحبّ المتکبّرین جب کھانے سے فارغ ہوئے تو امام نے ان کو اپنا مہمان ہونے کی دعوت دی انہیں کھانا کھلایا اور لباس عطاکیا (زندگی نامہ امام حسن مجتبی ٰ ص ٣٨)



امام حسن،پیکرِ حلم و بردباری

جس کے دل میں بھی خدا کی محبّت ہو اس کے ساتھ زندگی بسرکرنا آسان ہو جاتی ہے اور انسان یاد خدا اور ذکر خدا کے ذریعہ دل کو نرم کر سکتا ہے امام حسن کے ایک غلام نے خیانت انجام دی تو امام نے چاہا اس کو سزا دیں تاکہ وہ اس خطا کی دوبارہ جرأت نہ کرے لیکن کریم آقاکاغلام مزاج آشنا تھا فورا کہتا ہے: والکاظمین الغیظ امام فرماتے ہیں کہ میری ناراضگی دور ہو گئی غلام کہتا ہے :والعافین عن الناس ۔امام نے فرمایاکہ: میں نے تیری خطاکو معاف کیا غلام یہیں خاموش نہیں ہوتا بلکہ کہتا ہے : واللہ یحبّ المحسنین۔ امام فرماتے ہیں کہ میں نے تجھے خدا کی راہ میں آزاد کیا اور تیرے حقوق کو دو برابر کیا ۔(منتھی الامال ج ٣ ص ٣١٢ )
امام حسن پر عبادت گذاروں کے پرچمدار ر

جہاں بھی تجلّی الہٰی دل کی گرمی اور عشق خدا آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جہاں بھی خود سے خودی اور ذات معبود میں فنا کا جذبہ موج زن ہو وہاں پر ہر غم اور رنج قابل قبول اور ہر مشکل و سختی شوق عبادت میں اضافہ کا سبب ہوتی ہے امام حسن کی ذات اس کا روشن نمونہ تھی آپ جب بھی مسجد میں داخل ہونا چاہتے تھے دروازہ پر کھڑے ہو کر اپنے معشوق حقیقی سے فرماتے تھے ''خدایا تیرا مہمان تیرے در پر کھڑا ہے اے احسان کرنے والے پرور دگار ایک گناہگار تیرے در پرکھڑا ہے تو نے تو خود حکم دیا ہے کہ خطاکاروں کی خطائیں بخش دو اور قلم عفو سے ان کی غلطیوں پر خط کھینچ دو اے میرے کریم رب ! تو مہربان اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور میں گناہگار ہوں ۔
(اعیان الشیعہ،ج ٤ ،ص ١٢۔منتہی الامال ص ٩٣١١ )
خدایا اپنی عظمت اور اپنے جمال کے صدقہ میں میرے گناہوں سے در گذر فرما اے گناہوں کو بخشنے والے رب!امام کے حالات زندگی میں مرقوم ہے کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے خود سے بیگانہ اور جمال الہٰی میں فنا اور محو ہو جاتے تھے نماز شب میں جسم لرزتا تھا اور اعضاء میں رعشہ پیدا ہو جاتا تھا جب بھی ایّاک نعبدکہتے تھے تو گویا پوری کائنات سے کٹ گئے ہوں اور صرف ذات واحد کے سوا کسی اور شے کا وجود ہی نہ ہو اور جب ایاک نستعین کہتے تھے تو گویا ولی مطلق کے سامنے سراپا ئے ذلّت و احتیاج ،فقر و نیاز مندی ،ناداری اور ناتوانی ہوتے تھے ۔
( در مکتب کریم اہلبیت ص ٣٨ )

امام حسن وارث خلق عظیم

اس کائنات میں اگر اخلاق کو تلاش کرنا ہو تو اخلاق مجسّم محمد وآل محمد کو دیکھا جائے در حقیقت ایسا لگتا ہے کہ ان کا فعل اخلاق کے سانچے میں ڈھلا ہے اور ان کی سیرت اخلاق کی صورت ہو امام حسن اخلاق میں اپنے جد رسول اللہ کی مثال تھے اخلاق میں سب سے پہلی اور بنیادی سیڑھی ماں باپ کے حقوق کی رعایت سے امام حسن کبھی اپنی ماں فاطمہ زہرا کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے جب شہزادی کونین نے اس کا سبب پوچھا تو مولا نے فرمایا کہ اے مادر گرامی میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس چیز کو کھائوں جس پر آپ کی نظر ہو اور اس فعل کے نتیجہ میںعاق ہو جائوں بی بی دو عالم فرماتی ہیں : کہ اے میرے لخت جگر تم میرے ساتھ کھائو مجھے برا نہ لگے گا۔ (ریحانہ محمد ص ٥٥)


امام حسن، ورثہ دار شجاعت علوی

شجاعت کا مصداق حقیقی علی ابن ابی طالب کے علاوہ اس کائنات مین دوسرا نہیں ملے گا کہ جس نے اپنے دشمن اور اپنے نفس دونوں پر فتح حاصل کی ہو اور امام حسن اپنے باپ کے وارث تھے تمام صفات کمالیہ جو علی میں تھیں آپ کے اندر بھی موجود تھیں اور شجاعت تو حسن ابن علی کے در پر ناصیہ فرسائی کو سامان فخر سمجھتی تھی امام کے بچپن کا ایک واقعہ ان کی شجاعت کے مظاہرہ لئے کافی ہے ابن ابی الحدید معتزلی نقل کرتا ہے کہ امام حسن مسجد میں وارد ہوئے تو دیکھا ابو بکر منبر پر خطبہ پڑھ رہا ہے امام نے یہ دیکھا اور فرمایا میرے باپ کے منبر سے اتر جا اور اپنے باپ کے منبر پر جاکر بیٹھ ۔( تحلیلی از زندگی سیاسی امام حسین ص ١٤٣ شرح نہج البلاغہ ج ٢ ص ١٧؛ تاریخ خلفاء ص ٨٠ )
ابو بکر کہتا ہے قسم خدا کی سچ کہا یہ منبر تمہارے ہی بابا کا ہے میرے باپ کا نہیں اس طرح کا برتائو ایک ایسے شخص کے ساتھ کہ جو حکومت کی فرداول ہو اورجس نے زور اور غصب کے ساتھ حکومت پر قبضہ کیا ہو ،امام کی شجاعت کو ظاہر کرتی ہے خدا وند عالم سے دعا ہے کہ اس پاک ذات کے طفیل میں ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی سیرت پر عمل کر سکیں اور اس راہ پر کہ جس کو روشن کرنے کے لئے امام نے جام شہادت نوش فرمایا، گامزن ہوں اور اس کے حقوق کی رعایت کر سکیں آمین

qeyame imam husain alaihissalam aur darse shuja'at

قیامِ حسین اور درسِ شجا عت سیّد نقی حیدر نقوی
کربلا کی جنگ حقّ و باطل کے درمیان حدِّ فاصل ہے جسکو حسین نے اپنے لہو کی سرخی سے روشن اور نما یاں کر دیاحسین نے انسانیت کو ظلم سے مقابلہ کا سبق پڑھایا اور حقّ و باطل کی جنگ میں مصلحت سے کام لینے والوں کو ایک درس دیدیا کہ اسلام کی حفاظت کا جب وقت آ ے جب حق کو باطل سے جدا کرنے کا وقت آے تو کسی مصلحت کی کویی اہمیت نہیں ہوتی حسین نے انسانیت کو شجاعت کا درس دیا ایسا درس کہ جس نے پڑھ لیا پھر عمر کی شرط اور قید اسکے لیے مہم نہیں رہی بڑھاپا بچپنہ معیار نہ رہا دولت اور سلطنت راہ کو نہ روک سکی حسین نے جب قیام کی ابتدا کی دربار ولید میں سے لے کر اپنے سجدۂ آخر تک اپنے موقف کو واضح رکھا کہ جس سر پر دینِ الٰہی کی عزّت و عظمت کا تاج ہو وہ کبھی ظالم کے آگے جھک نہیں سکتا جس ہاتھ میں امانتِ رسالتِ انبیاء ہو وہ ہاتھ دشمنانِ رسالت کے ہاتھ میں نہیں جا سکتا حسین کے اس درس ِ انقلاب کی عبارتوں سے حسین کا موقف معلوم ہوتا ہے کہ حسین نے ہمیشہ غیرت و حشمت ِ اسلام کی حفاظت کی اور کہیں بھی ظالم کی طاقتوں کے سامنے زبان حسین حق گویی کرتے نہیں لرزی اسی درسِ جوانمردی کی کچھ عبارتوں کے بیان اور ملاحظہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حسین کا حدف کیا تھا کچھ خاص مقامات پر امام کے خاص جملات و خطابات تاریخ پیشانی پر سنہرے جھومر کی طرح رونق افروز ہیں انہیں میں سے کچھ کلمات کو حسین کے قیام کو سمجھنے کے لیے وسیلہ قرار دیتے ہیں
حاکم مدینہ (ولید ابن عتبہ ابن ابی سفیان ) سے خطاب
معاویہ کی موت کے بعد ولید ابن عتبہ نے امام حسین کو دربار میں طلب کیا اور بیعت کا مطالبہ کیا اور امام نے پہلے ہی مرحلے میں اپنے فضایٔل و کمال اور یزید کی خصلتوں کے ذکر کے بعد اپنا ارادہ کچھ یوں ظاہر کیا "" مثلی لا یبایع مثلہ ١) "" میرے جیسا انسان یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا یہاں پر حسین نے اپنے اور یزید کی صفات کے بیان کے بعد فرمایا میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا حسین درحقیقت اپنے صفات نہیں بلکہ جوانمردوں کے صفات بتا رہے تھے اور اسکی راہ بھی روشن کر رہے تھے کہ کویی بھی غیرتمند انسان یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا
اسکے دوسرے جب مروان نے امام کو نصیحت یا خیر خواہی کی رو سے یزید کی بیعت کرنے کو کہا تو مولا نے بلاکسی جھجھک اور تمام ثابت قدمی کے ساتھ فرمایا "" انا للہ و انا الیہ راجعون ۔و علی الاسلام السلام اذا بلیت الامہ براع مثل یزید٢) "" امام نے یہاں بھی ایک غیورمسلمان کی راہ کو واضح کر دیا یہاں بھی امام نے ایک قیامت تک کے لیے پیغام دیا یہ نہیں کہا کہ جب اسلام کی زمام یزید کے ہاتھ میں ہے تو اسلام پڑھ دو نہیں بلکہ امام نے فرمایا جب اسلام کی زمام یزید صفت کے ہاتھ میں تو اسلام کو وداع کر دیا جاے یہ بیان قیامت انے والو کو کو درس انقلاب دے رہا ہے کہ جب دیکھو یزید جیسے لوگ اسلام کے ٹھیکیدار ہیں تو پھر حسین جیسی روش اپناؤ اسلام کے آینہ پر چڑھی گرد کو لہو سے دھو ڈالو
امام اپنے بھایی محمد حنفیہ سے فرماتے ہیں "" یا اخی واللہ لولم یکن فی الدنیاملجاء ولاماوی لما بایعت یزید ابن معاویہ ٣) "" امام نے فرمایا کہ اے بھای اگر ساری زمین میں میرے لیے کوی بھی پناہ گاہ نہ ہو تب بھی میں یزید کی بیعت نہیں کرونگا امام نے بتا دیا کہ اگر ساری دنیا کی پناہ کھو کر بھی عزت اسلام کی انسان حفاظت کرے تو نقصان میں نہیں رہیگا
امام منزل بیضہ پر فرماتے ہیں کہ """ قال رسول ا للہ من رایء سلطانا جایئرا مستحلالحرم اللہ ناکثا لعہد اللہ مخالفا لسنت رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ با لاثم والعدوان ثم لم یغیّر بقول ولا فعل کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ "" ٤)یہاں ہر امام نے حق پرستوں کے لیے راہ کو روشن کر دیا اور فرمایا جو بھی کسی ظالم حکمران کو دیکھے کہ وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام میں تبدیل کر رہا ہے اللہ کے پیمان کو توڑ رہا ہے سنت رسول اللہ کی مخالفت کر رہا ہے اور اللہ کے بندو کے ساتھ میں گناہ اور بغض کی رو سے برتاؤ کر رہا ہے اور یہ سب دیکھنے کہ بعد بھی انسان ان تبدیلیوں کے خلاف زبان سے یا عمل سے اقدام نہ کرے تو اللہ کو حق ہے کہ وہ اس دیکھنے والے کو اس ظالم بادشاہ کے ساتھ محشور فرماے ٔ یہاں پر امام نے راہ انسان اور اسلام کو بلکل رو شن کر دیا اور ایک مسلمان کے لیے اسکی ذمہ داری کو بیان کردیا
کربلا پہنچ کر امام اپنے زمانہ کے حالات کو بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں "" لیرغب المومنفی لقاء ربّہ حقا فانی لا اری الموت الاّ سعادت والحیات مع الظاّ لمین الاّ برما "" ٥) اگر مومن ان حالات میں اپنے پروردگار سے ملاقات کی رغبت کرے اسلیے کہ ان حالات میں موت جز سعادت اور کامیابی اور ظالمین کے ساتھ زندگی گزارنے میں ذلت اور رسوایی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا ہو
یا امام انسانیت کو عزت کا درس دیتے ہوے فرماتے ہیں موت فی عزّ خیر من حیات فیذلّ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے امام علیہ السلام کتاب عزت کے آخھری درس کو یوں بیان فرماتے ہیں "" الا و ان الدعی بن الدعی قد رکز بین اثنتین بین السلّت والذلّت و ہیہات منا الذلہ "" ٦) جان لو کہ اس بد بخت باپ کے بد بخت بیٹے نے مجھے اختیار دیا کہ دو میں سے ایک چیز کو قبول کر لوں یا تلوار کو ( یعنی قتل ہو جانے کو ) یا ذلت کو ( یعنی بیعت کو اور ہم لوگ ذلت سے بہت دور ہیں
امام نے فرمایا کہ جب عزت ِاسلام کی بات آجاے ٔ تو سر کٹا دینا گھر بار لٹا دینا کہیں بہتر ہے ذلّت کو قبول کرنے سے
خدا وند عالم سے دعا ہے کہ پروردگار ہم لوگوں کو اس درسگاہ ِ شجاعت اور غیرت کے کامیاب شاگرد بننے کی توفیق عنایت فرما ۔ بحقّ الحسین وابنائہ و انصارہ
١۔بحار ج ٤٤ ص ٣٢٥
٢۔مقتل خوارزمی ج١ص١٨٥
٣۔بحار ج ٤٤ ص٣٢٩
٤۔ارشاد ج ٢ ص ٢٣٤
۔٥۔بحار ج ٤٤ص٣٨١ ۔
٦۔ تحف العقول ص٢٤١۔بحارج ٤٤ ص١٩١